26 اگست 2026 - 16:14
شیخ زہیر الجعید: اسلامی اتحاد صہیونی منصوبوں کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہے

لبنان کی اسلامی ایکشن فرنٹ کے رابطہ کار شیخ زہیر الجعید نے کہا ہے کہ اسلامی اتحاد کو صرف مذہبی اجتماعات اور تقریبات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطین اور بیت المقدس جیسے مشترکہ مسائل پر مسلمانوں کا متحد ہونا ہی صہیونی قبضے، انتشار اور خطے کی تقسیم کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کا مؤثر راستہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی اسلامی ایکشن فرنٹ کے رابطہ کار شیخ زہیر الجعید نے کہا کہ فلسطین، لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت میں مسلسل اضافہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مسلمان اپنے بنیادی مسائل پر متحد ہوں اور مذہبی اختلافات کو باہمی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اور خطے کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اتحاد کے ذریعے دشمن کی فرقہ وارانہ سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے، جبکہ تفرقہ دشمن کو مرحلہ وار خطے کے عوام پر غلبہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

شیخ زہیر الجعید نے فلسطین کو اسلامی اتحاد کا سب سے بڑا عملی امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں قتلِ عام، تباہی اور لوگوں کی بے دخلی نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کے تباہ کن نتائج کو سب کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کسی ایک مذہب یا گروہ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام اور انسانیت کا مسئلہ ہے۔ امتِ مسلمہ کے کسی بھی حصے کا دفاع درحقیقت پوری امت کا دفاع ہے۔ ان کے بقول، لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی حملے بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ صہیونی منصوبہ صرف فلسطین تک محدود نہیں ہے۔

لبنان کی اسلامی ایکشن فرنٹ کے رابطہ کار نے امام خمینی(رہ) کی اسلامی اتحاد کے حوالے سے فکر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان میلادِ رسول اکرم(ص) کی تاریخ کے اختلاف کو تفرقے کا سبب بنانے کے بجائے 12 سے 17 ربیع الاول تک کے ایام کو ہفتۂ وحدت قرار دیا۔

انہوں نے ایران، بالخصوص سنندج شہر کو مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کو صرف تقریروں اور مذہبی اجتماعات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ علما، دینی اداروں اور مسلم معاشروں کے باہمی تعلقات میں عملی شکل اختیار کرنی چاہیے۔

شیخ زہیر الجعید نے لبنان کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے علما اور اسلامی شخصیات کے کردار کو اہم قرار دیا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کو فرقہ وارانہ تنازعات میں تبدیل ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا اسلامی معاشروں کو کمزور کرنے کا دشمن کا خطرناک ترین ہتھیار ہے۔

انہوں نے جنوبی لبنان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی مختلف علاقوں کے عوام کی جانب سے میزبانی کو قومی اور اسلامی یکجہتی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی مزاحمت اور حمایت کو بھی محض ایک فرقے کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

شیخ زہیر الجعید نے آخر میں کہا کہ امتِ مسلمہ کے پاس انسانی، معاشی اور ثقافتی وسائل کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر مسلمان فرقہ وارانہ کشیدگی کو مسترد کرتے ہوئے فلسطین، بیت المقدس اور اسرائیلی قبضے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کریں تو ان صلاحیتوں کو ملتوں کے تحفظ اور تقسیم و تسلط کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha